17 اگست 2010 - 19:30

ہمارے سارے اقدامات کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ہر اس عمل کو ناکام بنایا جائے جو ہم اور ہمارے فرار کے درمیان حائل ہو سکتا ہے اور سعودی افواج کو مفلوج کرنا چاہئے تا کہ ہم فرار کا موقع پاسکیں۔

  • ہماری حکومت زوال ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ہم میں اس کی حفاظت کی اہلیت نہیں رکھتے۔

  • ہمارا خاندان ایسے حال میں حکومت کررہا ہے کہ زمانہ اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے؛ حتی کہ علماء بھی ہم سے بچھڑ گئے ہیں

  • دنیا ہمارے ملک پر حکمفرما دینی افکار و عقائد قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے

  • ہمارے عقائد دہشت گردی کی علامت اور مسلمانوں کے لئے خوف و ہراس کا سبب اور دنیا کے تمام بحرانوں کی بنیاد ہیں

  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہلکار ماضی کی طرح اب ہمارے قابو میں نہیں ہیں اور ہم انہیں اپنی اطاعت کرانے کے اہل نہیں رہے اور ان کے اعمال دنیا کی نظروں میں بھی اور ہمارے عوام کے نزدیک بھی ان کی حرمت شکنی اور ان کی آزادیاں چھن جانے کا سبب ہیں

  • جن بیرونی طاقتوں کے سہارے ہم حکومت کررہے تھے آج وہ بھی ہمارے دشمن ہیں

  • ہم نے امریکہ پر اعتماد کیا کہ وہ ہر خطرے میں ہماری مدد کے لئے آئے لیکن امریکہ صرف ان لوگوں کی حمایت کرتا ہے جو حکومت کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں

  • جب حکمران اپنا تسلط کھودیتے ہیں امریکی انہیں چھوڑ دیتے ہیں

  • اگر ہم اپنے دوستوں کو کل قائل کرسکتے تھے تو آج انہیں قائل کرنے کے قابل نہیں ہیں اور ہمارے اندرونی حالات ہماری حمایت کے لئے امریکیوں کی رغبت کا سبب نہیں بن رہے

  • آج امریکی ہمارے کردار میں اپنے مفادات نہیں پارہے ہیں؛ آخر کیونکہ ہم جو اپنے مفاد کی حفاظت نہیں کرسکتے تو ان کے مفادات کا تحفظ کیونکر کرسکیں گے؟ 

  • ہماری سلطنت کے قیام سے لے کر اب تک ہمارے عوام ہم سے اتنے کبھی بھی ناراض نہیں تھے جتنی آج ہیں

  • ہم نے اپنی بات منوانے کے لئے سب کچھ کیا:

  • ہم نے ان لوگوں کو آنے جانے سے روکا جو ہمارے اقدامات پر معترض تھے

  • ہم نے ہر اس شخض کو جیل میں بند کیا جس کی رائے ہماری رائے سے مختلف تھی ہم نے تمام مناصب اپنے فرزندوں میں بانٹ دیئے او پر سے نیچے تک، وزراء سے لے کر مدیروں تک اور علاقوں کے سربراہوں سے بورڈوں کے سربراہوں تک

  • ہم نے افواج کے سارے مناصب بھی اپنے ہی بیٹوں کو عطا کئے

  • جن مناصب اور سرکاری عہدوں میں ہم رہ رہے ہیں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے

  • ہمارا ان مناصب اور عہدوں میں رہنا خطرناک ہے کیونکہ ان عہدوں میں ہوتے ہوئے ہمیں نشانہ بنانا اور ہمیں پکڑلینا آسان ہوجاتا ہے

  • جاسوسی اداروں کے سربراہ، سیکورٹی اہلکاروں اور فوج پر اعتماد نہ کرو؛ وہی جو ہم میں سے ہیں اور ہمارے خاندان کے افراد ہیں جبکہ ان حالات میں ان کی موجودگی ہمارے لئے کسی صورت میں بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتے؛ ان پر اعتماد نہ کرو

  • جو چیز اس زمانے میں ہمیں فائدہ پہنچا سکتی ہے وہ نجات اور بچاؤ کی فکر ہے تا کہ ہمارا انجام بھی صدام حسین، نوری سعید، عبدالالہ، فیصل الثانی جیسا نہ ہو

  • ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا انجام بھی معین و مقرر ہے جیسا کہ السنوسی، ہیلا سیلاسی، اور محمد علی کا خاندان، پہلوی کا خاندان، عثمانی خاندان زوال پذیر ہوا اور جس طرح ان سے قبل قیصر، لوئی شانزدہم کو زوال آیا۔

  • ہمارے لئے درپیش بحرانوں میں شدت آرہی ہے اور ہمارا موقف در حقیقت ہماری خواہشوں کا مجموعہ ہے۔

  • بیمار اپنی موت کا یقین بھی کرلے تو بھی علاج و معالجہ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے؛ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ خالصتاَ وہم ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور خالصتاً نا امیدی کی ایک قسم ہے اور بس.

  • ہم فیصل الثانی اور عبدالالہ اور عراق میں نوری سعید کا انجام نہیں چاہتے

  • ہم حتی نیپال کے بادشاہ کا انجام بھی برداشت نہیں کرسکتے جس کے قدموں میں اس کی بادشاہت منسوخ کردی گئی اور وہ تخت اس سے چھین لیا گیا تھا جو اس نے شمشیر کی طاقت سے حاصل کیا تھا بالکل ہماری طرح...

  • وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہا ہے لیکن ہم یہ سب برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں

  • اس حال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

  • اگر ہم عقلمند ہیں تو ہمیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہئے جو ہماری نفرت کے ساتھ ہمارے خلاف ابھر رہا ہے

  • ہمارے اوپر فرض ہے کہ جب تک ہم میں طاقت ہے اس ملک سے انخلاء کے لئے اقدام کریں،

  • ہمیں یہ کام آج کرنا چاہئے (آئندہ) کل سے پہلے؛ ہمیں یہ کام کرلینا چاہئے جب تک ہمارے پاس موجودہ دولت اور اموال سوئٹزر لینڈ سے لے کر کینیڈا اور آسٹریلیا تک کہیں بھی ہماری زندگی گذارنے کے لئے کافی ہیں

  • ہم میں سے جو بھی اس ملک سے نکلتا ہے اسی واپس نہیں کرنا چاہئے حتی کہ ہم سب پرامن انداز سے اس ملک سے نکل جائیں

  • واجب ہے کہ ہم اپنے خاندان تیزرفتاری کے ساتھ اس ملک سے نکال باہر کریں اور اس ملک کو چھوڑ دیں قبل اس کے ہمیں سڑکوں پرگھسیٹا جائے جس طرح کہ عراق کے خاندان سلطنت کو گھسیٹا گیا۔  

  • یہ بات زور دے کر کہتا ہوں کہ امریکہ ہرگز ہماری مدد کو نہیں آسکے گا